گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 72)

کاغذ کو پکڑ کر کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس کو کھول لیا۔۔۔

اس میں ایک مختصر سی تحریر تھی جس میں درج تھا۔۔۔

میرے عزیز صائم۔۔۔

میں تمہیں اپنا محبوب نہیں کہوں گی کیونکہ تم ہمارا ایک ٹارگٹ تھے۔۔

اس ٹارگٹ کے لیے اب اور پیادہ آ گیا ہے تمہیں ایڈوانس باپ بننے کی مبارک ہو ۔۔۔

اس بیگ میں تمہاری امانت ہے اور اس گھر کے کاغذات بھی ہیں جو تمہارے نام ہیں۔۔۔

میری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ ہے جو تمہیں پسند آئے گا۔۔۔۔

کبھی زندگی میں آمنا سامنا ہوا تو اچھے سے ملوں گی۔۔۔

فقط۔۔۔۔

شمیم۔۔۔

میں اس خط کو غور سے دیکھتا رہا کئی بار پڑھا اس کو خود پر سوار کرنے کی بجائے دوبارہ سے بند کر دیا۔۔۔

پھر بیگ کی طرف متوجہ ہوا بیگ کو کھولا تو اس میں پیسوں کے علاوہ ایک پسٹل اور میرے لیے کچھ کپڑے تھے۔۔۔

میں اس کو دیکھ کر حیران نہیں تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ میرے لیے اتنا تو کرے گی ہی۔۔۔

بیگ کو اٹھا کر اندر بیڈ روم میں گیا اور الماری میں رکھ دیا ۔۔۔

وہاں الماری کی چابی موجود تھی میں نے الماری کو لاک کر دیا۔۔۔۔

بیڈ پر کچھ دیر بیٹھا رہا کوئی خاص سوچ دماغ میں نہیں تھی۔۔۔

پھر اٹھا اور چاچا کے گھر کی طرف چل دیا۔۔۔

گھر جا کر کپڑے بدلے گھر میں کوئی خاص دل نہیں لگ رہا تھا میں نے کھانا کھایا مجھے فرحی نے کھانا دیا۔۔۔

اس کے چہرے پر بھی بارہ بجے ہوئے تھے چاچی کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا بالو بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔

گھر میں فرحی اکیلی تھی پھر بھی اس کا رویہ عجیب سا تھا ۔۔۔۔

میں نے بھی اس کو کچھ نہ کہا بیٹھک میں جا کر بیٹھ گیا۔۔۔

اس کالج میں آ کر میرا موڈ خراب ہو گیا تھا یہاں کا ماحول مجھے سکول جیسا لگ رہا تھا۔۔۔۔

کالج کا مطلب آزادی ہوتا ہے جو یہاں میسر نہیں تھی۔۔۔

میں نے شاہد سے رابطہ کیا اس سے ہیلو ہائے کے بعد مستقبل کے بارے میں پوچھا۔۔۔

اس نے کہا کہ وہ بھی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ ان پنگوں سے کنارہ کش کو جائے۔۔۔

کافی دیر بات ہوتی رہی پھر میں نے ناصر سے بات کی اس نے بھی کچھ ایسی ہی بات کی ۔۔۔

ایک ارشد ایسا تھا جس نے کہا یار اگر ایک بار اتر پڑے ہیں تو پھر واپس نہیں جانا چاہئیے۔۔۔۔

ارشد نے مجھے ایک اور بات بتائی کہ عاذب آج کل کاشی کو بہت مل رہا ہے اور کاشی اس سے بات کرنے سے کتراتا ہے۔۔۔۔

کوشی ٹنڈا بڑی عجیب فطرت کا انسان تھا پل میں ماشہ پل میں تولا ۔۔۔

مطلب گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا تھا ارشد نے بتایا کہ عاذب اس کو کسی کام کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے جس سے کاشی انکاری ہے۔۔۔

ارشد کی باتوں سے مجھے عاذب کے ارادوں میں تبدیلی نظر آ رہی تھی۔۔۔

میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ جو بھی ہو جائے میں اب پھر سے کالج کو بغیرتیوں کی آماجگاہ نہیں بننے دوں گا۔۔۔۔

میں نے سونے کی کوشش کی لیکن بے سود رہی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں چاچی بھی آ گئی اور بالو بھی میں فارغ تھا اس لیے سوچا کرکٹ کھیلنے چلتا ہوں۔۔۔

کرکٹ کھیلنے سے مجھے افرا کو لینے جو آیا تھا وہ بھی یاد آیا۔۔۔۔

وہ طارق تھا میں سوچنے بیٹھ گیا کہ طارق کا افرا کے ساتھ کیا تعلق ہے وہ اس کو کیوں لینے آیا تھا۔۔۔۔

پھر سارا موڈ خراب ہو گیا لیکن پھر بھی میں نے بائیک نکالی اور اپنے پرانے ٹاؤن چلا گیا۔۔۔۔

لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے میں ان سب سے ملا اور ایک ٹیم میں شامل ہو گیا۔۔۔۔

کرکٹ کھیلتے ہوئے میری نظریں بار بار طارق کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔

طارق نظر نہ آیا مجھے کسی نے ایک دن بتایا تھا کہ طارق بھی ریحان والے واقعے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔

لیکن مجھے جو معلومات ملی تھیں ان کے مطابق طارق عمائمہ کے واقعہ کے بعد غائب ہوا تھا۔۔۔

خیر کرکٹ کھیل کر انجوائے کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ چس نہ آئی۔۔۔

شام کو میں واپس گھر آیا کھانا وغیرہ کھایا اب فرحی کا موڈ کافی بہتر تھا ۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد میں بیٹھک میں بیٹھ گیا اور کتابیں نکال کر پڑھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔

کافی دیر کی مغز ماری کے بعد دماغ پڑھائی میں لگا ہی تھا کہ موبائل پر میسج آیا۔۔۔

میسج میں سلام لکھا گیا تھا جس کا میں جواب دیا۔۔۔

ایک نامعلوم نمبر تھا اس لیے میں سرسری سا جواب دیا لیکن دل میں تجسس تھا کہ کون ہوسکتا ہے۔۔۔

اسی وقت ہی ایک اور میسج آیا کیا حال ہیں۔۔۔

میں نے ٹھیک ہوں کا جواب دیا۔۔۔

پھر میسج آیا کیا کر رہے ہو۔۔۔

اب مجھ سے رہا نہ گیا میں نے جواب دینے کی بجائے پوچھ ہی لیا کون۔۔؟؟؟

جو جواب آیا وہ کچھ یوں تھا۔۔۔۔

مرضی ہے آپ کی اب ہمیں کہاں یاد رکھیں گے کہیں اور لگ لی ہو گی آپ پر تو کئی مرتی ہوں گی۔۔۔

میں نے جواباً لکھا ہو کون ۔۔۔؟؟

اس نے لکھا بس پتہ چل گیا کتنی یاد آتی ہے؟۔۔۔۔۔؟؟؟

میں نے کہا چلو ٹھیک ہے جو مرضی سمجھو اب مجھے میسج نہ آئے۔۔۔۔

اسی وقت میسج آیا غصہ آ گیا۔۔۔

میں نے کوئی جواب نہ دیا پھر میسج آیا اچھا ایک بات جواب تو دیں بتاتی ہوں ۔۔۔

میں نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔۔۔

پھر میسج آیا میں وہ ہوں جس کے ساتھ آپ نے ایک لمبا سفر رات میں کیا تھا۔۔۔۔

میں سمجھ تو گیا تھا کون ہے لیکن پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔۔۔

اس کے کچھ دیر بعد کال آ گئی۔۔۔

میں ہنستے ہوئے کال رسیو کی اور بس اتنا کہا مجھے پتہ چل گیا کون ہو میسج پر بات کرتے ہیں۔۔۔

میں نے اس لیے کہا کہ بالو کال رسیو کرنے کے بعد جب میں نے بالو کی طرف دیکھا تو وہ غور رہا تھا۔۔۔

کافی دیر اس سے بات چیت ہوتی رہی ۔۔۔

وہ ہنی تھی اس کے ساتھ کافی کھل کر باتیں ہوئیں۔۔۔۔

آج وہ بھی موڈ میں تھی وہ ہر دوسرے میسج کے بعد مجھے دل والی ایموجی سینڈ کرتی رہی۔۔۔

بڑی مشکل سے اس کو گڈ نائٹ کیا اور پھر سو گیا ۔۔۔

صبح جلدی اٹھا اور نہا دھو کر تیار ہوا پھر کالج کے لیے نکل پڑا آج میرا رخ گورنمنٹ کالج کی طرف تھا ۔۔۔

گورنمنٹ کالج میں لڑکے اتنی جلدی کہاں آتے تھے ویسے بھی کلاسز ابھی تک شروع نہیں ہوئیں تھیں۔۔۔

سارا کالج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔۔۔

میں کچھ دیر وہاں کھڑا رہا میرا دل نہیں کر رہا تھا کالج جانے کو یہاں ہی رہنا چاہتا تھا۔۔۔

جانا تو تھا اس لیے مجبوراً جانا پڑا نہ جاتا تو گھر شکایت ہو جاتی۔۔۔

میں وہاں سے اپنے کالج کے لیے نکل پڑا بڑا سیریس سا موڈ بنا کر کالج گیا ۔۔۔

آج کل کی نسبت سب کا موڈ بڑا اچھا تھا کوئی بدتمیزی نہیں کر رہا تھا۔

آج رباب کا انداز بھی بڑا حوصلہ افزا تھا وہ بے شک ایک حسین نین نقش کا مالک خوبصورت اور ماڈرن لڑکی تھی۔۔۔

آج کئی لڑکوں نے بھی دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے کسی سے بھی تعلق بنانے کی کوشش نہ کی۔۔۔

میرے ساتھ جس طرح پرنسپل کا رویہ پہلے دن تھا اور پروفیسرز کا جو رویہ تھا اس کو دیکھ کر میں کسی سے کوئی دوستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

چھٹی تک رباب گل نے مجھ سے دو تین بار بات بھی کی وہ مجھ سے صرف میری ذہانت کی وجہ سے متاثر تھی مجھے کم از کم ایسا لگ رہا تھا۔۔۔

رباب کی بہن جو یہاں پڑھاتی بھی تھی اس کا نام مہتاب گل تھا اس نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے چھٹی کے بعد مل کر جانے کا کہا۔۔۔۔

اس بات پر بھی میرے ساتھ بیٹھے لڑکے نے مجھے کہنی مارتے ہوئے کہا آتے ہی چھکا مار دیا۔۔۔

لگتا ہے میڈیم مر مٹی ہیں جناب پر یا کوئی پرانا یارانہ ہے۔۔۔

میں نے اس کی منہ کرکے کہا سوچ سمجھ کر بول یہ نہ ہو کہ بعد میں بولنے کے لیے زبان ہی نہ رہے۔۔۔

اس کو غصہ بھی آیا لیکن پی گیا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔۔۔

میں نے کوئی بات نہ کی بریک ہوئی میں کینٹین گیا اور ایک طرف کونے میں پڑی چئیر پر سینڈوچ اور بوتل لے کر بیٹھ گیا اور کھانے لگا۔۔۔۔

میں نے ابھی آدھا سینڈوچ کھایا ہوگا کہ دو لڑکیاں آ کر میرے سامنے بیٹھ گئیں ۔۔۔

میں کیونکہ سر جھکائے بیٹھا تھا اس لیے ان کے کپڑوں کو دیکھ کر ہی پتہ چلا کہ وہ لڑکیاں ہیں۔۔۔

میں بوتل کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتا رہا اور سینڈوچ کھاتا رہا۔۔۔

پھر ایک مترنم سی آواز آئی آپ سچ میں ایسے ہیں یا صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔۔۔

میں نے چونک کر اوپر دیکھا تو پتلے گلابی لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔

میں تھرتھراتے لبوں کو دیکھنے لگا جن سے لفظ ایسے نکلے تھے جیسے کسی نے کوئی عشقیہ گانا گایا ہو۔۔۔

وہ رباب تھی اس کے ساتھ ایک اور لڑکی تھی جو میرے سامنے بیٹھ چکی تھی۔۔۔

میں نے دوبارہ سے سر جھکایا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔

پھر آواز آئی میں نے کچھ پوچھا ہے اگر میری آواز پسند نہیں تو دوبارہ بات نہیں کروں گی۔۔۔

میں نے جلدی سے کہا ایسی بات نہیں ہے میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ آپ طنز کر رہی ہیں یا صرف پوچھ رہی ہیں۔۔۔

وہ مسکرائی اور کہا میں طنز کیوں کروں گی مجھے کیا ملے گا آپ پر طنز کرکے ویسے بھی آپ کے بارے میں ایک ہی دن میں جو کچھ پتہ چلا اور پھر میں نے جو ریسرچ کی اس نے آپ کے لیے دل میں عزت پیدا کر دی ہے۔۔۔

میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا۔۔۔

میں نے کہا آپ کی باجی نے پتہ نہیں میرے بارے میں آپ کو کیا کچھ کہا ہوگا میں بالکل بھی ویسا نہیں ہوں ۔۔۔

اس کے ہونٹ کھلے ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی اس نے ہونٹوں کی پنکھڑیوں کو کھولا اور کہا کسری نفسی سے کام لے رہے ہیں۔۔۔

میں نے اس کی بات کے جواب میں کہا کسر نفسی کا مجھے نہیں پتہ بس اتنا جانتا ہوں کہ میں ویسا بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔

ہم باتیں کر رہے تھے کہ کچھ لڑکے وہاں آ گئے۔۔۔

ان میں وہ لڑکا بھی تھا جس کے ساتھ پارک میں ہاتھا پائی ہوئی تھی۔۔۔

ہاتھا پائی کہنا بھی غلط ہوگا جس کے میں نے تابڑ توڑ لگائی تھیں۔۔۔

ہماری طرف گھور کر دیکھنے لگے اس لڑکے نے کہا تجھے بڑا شوق ہے ناں اپنا نام بتانے کا آج کے بعد تو اپنا نام بھی نہیں بتا پائے گا۔۔۔۔

اس نے ساتھ کھڑے لڑکوں کی طرف دیکھا میں ہنسنے لگا اور اس سے کہا ان کو بتایا ہے میرا نام یا ایسے ہی ساتھ لے آئے ہو۔۔۔

جو اس کے ساتھ آئے تھے ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھ کر میز پر جھکتے ہوئے بولا لڑکیوں کے سامنے ہیرو بننے کی کوشش نہ کر ۔۔۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور مروڑتے ہوئے کھڑا ہوا پھر اس کو کہا کالج میں نہیں چھٹی ہو جانے دے پھر لے آ جس کو بھی لے کر آنا ہے۔۔۔

رباب اور اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی اور مجھے روکتے ہوئے کہا نہ کرو، پہلے ہی کالج والے تمہارے خلاف ہیں اوپر سے اگر ان کے ساتھ جھگڑا کرو گے تو معاملہ اور خراب ہو جائے گا۔۔۔

میں نے رباب کی طرف دیکھے بغیر ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا اور کہا چھٹی ہوتے ہی جہاں چاہے آ جانا جو کرنا چاہو جس کو لانا چاہو لے آنا۔۔۔۔

وہ سب وہاں سے نکل گئے میں وہیں بیٹھ کر اپنا بقیہ سینڈوچ کھانے لگا اور بوتل کے سپ لینے لگا۔۔۔۔

بریک ختم ہوئی ہم سب کلاسز میں چلے گئے چھٹی تک کوئی خاص بات نہ ہوئی۔۔۔۔

چھٹی ہوئی میں کلاس سے نکل رہا تھا کہ رباب تیز تیز چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور مجھے یاد کروایا کہ مجھے مہتاب نے بلایا ہے۔۔۔

میں نے رباب سے کہا آج تو نہیں کل ضرور ان کی بات سنوں گا۔۔۔

رباب نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا کل کہاں اور کیسے۔۔۔

میں اس کی طرف سوالیہ انداز سے دیکھنے لگا۔۔۔

رباب نے مسکراتے ہوئے کہا یار کل اتوار ہے کل کیسے ان کی بات سنو گے، ہاں ایک کام ہو سکتا ہے ہمارے گھر آ جاؤ وہاں آپی آپ کو جو سمجھانا چاہتی ہیں کھل کر سمجھا لیں گی۔۔۔

میں نے کہا نہیں اچھا نہیں لگے گا تمہارے ممی پاپا کیا سوچیں گے ہو سکتا ہے ان کے دل میں بھی میرا کوئی غلط امیج بنا ہوا ہو۔۔۔۔

رباب نے کہا تم آجانا میرے مما پاپا ایسے نہیں ہیں ہمارے گھر میں تمہیں وہی عزت ملے گی جو کسی بھی دوست کو ملتی ہے بلکہ آپی کے کہے مطابق تو آپ کو بہت زیادہ اہمیت ملے گی۔۔۔

میں کچھ بولنے ہی لگا تھا اس نے اپنے پرس سے موبائل نکالا اور مجھے اپنا نمبر دینے کا کہا۔۔۔۔

میں بھی تو چاہتا ہی یہ تھا کہ اس کے چاند کے ٹکڑے کا نمبر میرے موبائل میں سیو ہو کر میرے موبائل کی قسمت کو چار چاند لگا دے۔۔۔۔

میں نے اس کو اپنا نمبر نوٹ کروایا اس نے مس بیل دی میں نے بھی اس کا نمبر سیو کر لیا۔۔۔

ہم دونوں وہاں سے ایک دوسرے کی مخالف سمت چل پڑے۔۔۔

میں نے بائیک نکالی اور کالج کے گیٹ سے نکل پڑا، مجھے گیٹ کے سامنے کچھ لڑکے کھڑے نظر آئے جنہوں نے مجھے دیکھ کر اپنی اپنی بائیکس سٹارٹ کر لیں۔۔۔۔

میں ان پر کوئی بھی توجہ دئیے بغیر آگے بڑھ گی تھوڑی دور ہی گیا ہوں گا کہ پانچ چھ بائیکس میرے آگے پیچھے دائیں بائیں آ گئیں۔۔۔۔

میں نے کوئی ریسپانس نہ دیا جیسے جیسے وہ چلتے گئے میں ان کے ساتھ چلتا گیا۔۔۔۔

وہ شہر سے باہر نکلے اور میں روڈ سے ایک طرف مڑ گئے۔۔۔

وہ اپنی طرف سے مجھے گھیر کر چل رہے تھے یعنی دو بائیکس میرے آگے تھیں ایک ایک دائیں بائیں تھی اور دو بائیکس میرے پیچھے۔۔۔۔

جس طرف وہ مڑتے مجھے ان کے ساتھ مڑنا پڑتا تھا میں نے کسی قسم کا کوئی بھی ریسپانس نہ دیا ان کے ساتھ چلتا گیا۔۔۔۔۔

وہ نہر کے ساتھ کچی سڑک پر اتر گئے یہ وہی رستہ تھا جس پر میں بچپن سے اب تک متعدد بار پیدل چل چکا تھا۔۔۔

ویسے بھی اسی سڑک پر آگے جا کر ناصر کا ٹیوب ویل تھا جہاں ہم لوگ کئی بار مل چکے تھے۔۔۔۔

میں مسکرانے لگا میری ہنسی دیکھ کر ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کیوں ہنس رہا ہوں۔۔۔۔

جو میں سوچ رہا تھا وہ ہی ہوا یعنی وہ ناصر کے ٹیوب ویل کر بنے ڈیرے میں داخل ہو گئے۔۔۔۔

وہاں داخل ہو کر میں زور زور سے ہنسنے لگا اور بائیک کو بند کرکے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔

اس لڑکے نے جو بڑی تڑیاں لگا رہا تھا مجھے دیکھ کر کہا پاگل ہو گیا ہے لگتا ہے ڈر کے مارے اس کا دماغ اڑ گیا ہے۔۔۔۔۔

میں اور زور سے ہنسنے لگا ایک لڑکا آگے بڑھا اور میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا تھوڑا صبر کر لے تو اچھا ہو گا یہ نہ ہو کہ بعد میں تجھے ہنسنا نصیب نہ ہو۔۔۔۔

اسی وقت باہر دو تین بائیکس کے ایک ساتھ اندر داخل ہونے کی آواز آئی میں نے جلدی سے منہ چھپا لیا۔۔۔۔

وہ لڑکا بولا منہ چھپا رہا ہے یہ جیسے کوئی لڑکی ہو۔۔۔

وہ سب ہنسنے لگے لیکن میں نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے تھے۔۔۔۔

وہ بائیکس اندر آ کر رک چکی تھیں جس نے مجھے کالج میں دھمکی دی تھی وہ لڑکا بڑے مؤدبانہ انداز میں بولا بھائی یہ ہے وہ لڑکا جس کے ساتھ آج کالج میں مڈبھیڑ ہوئی تھی۔۔۔۔

اچھا تو یہ ہے وہ جس نے تمہیں دھمکیاں دیں اور شاکر کو پارک میں مارا تھا ۔۔۔۔۔

لڑکا بولا جی بھائی یہی ہے اس کے بڑی چربی چڑھی ہوئی ہے اپنے آپ کو بڑی توپ شے سمجھتا ہے۔۔۔۔

میں نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا تھا میں آواز پہچان سکتا تھا اس لیے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔

وہ ناصر کی آواز تھی اس کی آواز میں مذاق کا عنصر نمایاں تھا اس نے کہا اچھا کیا تو اس کا نام جانتا ہے یہ کون ہے۔۔۔۔

وہ بولا نہیں بھائی آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کسی کے نام کی کیا ضرورت اور بلو بھائی کا نام ساتھ جڑا ہو تو کسی کی کیا مجال جو ہمارے شہر کے کسی بھی کالج میں میرے سامنے ٹک سکے۔۔۔۔

لگتا ہے اس کو آپ لوگوں کے بارے میں پتہ نہیں ہے ورنہ یوں کالج میں کسی کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی ہمت نہ کرتا۔۔۔۔

بلو لفظ سنتے ہی ایک اور آواز آئی تو تم بلو کو جانتے ہو تم بھی اس کے گروپ کے ہو۔۔۔۔

یہ آواز اسی لڑکے کی تھی جس کا نام ناصر نے شاکر بتایا تھا اور جس کے منہ پر میں پارک میں ہاتھوں کی مہر لگائی تھی۔۔۔۔

وہی لڑکا جو ناصر سے مخاطب تھا پھر بولا اور کیا اب کالج کی سطح پر ہمارے شہر میں بلو کے نام سے بڑا نام کوئی ہے۔۔۔۔

شاکر نے کہا اوہ اچھا جی تو یہ بات ہے تم بھی بلو کے ساتھی ہو اور بلو سے کبھی ملاقات ہوئی ہے۔۔۔

وہ لڑکا بڑے فخر سے بولا تم ملاقات کی بات کرتے ہو ہم کئی دفعہ اکٹھے رہے ہیں دارے خاں والے معاملے میں ان کے ساتھ تھا میں۔۔۔۔

شاکر نے بڑی حیرانی سے کہا اچھا جی تو پھر تو تم بہت قریبی ہوئے بلو کے۔۔۔

ناصر کا قہقہ سنائی دیا میں ابھی تک دوسری طرف منہ کیے کھڑا تھا ۔۔۔۔

ناصر نے ہنستے ہوئے کہا بلو چل بس کر یار نہیں تو میں ہنس ہنس کر پاگل ہو جاؤں گا۔۔۔۔

میں بائیک سے اترا اور اس چول لڑکے کا گریبان پکڑ لیا اور اس کی چھترول شروع کر دی۔۔۔۔

اس کو سمجھ نہ آئی اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی اچھی خاصی چھترول ہو گئی تھی۔۔۔۔

میں غصے سے کہا سالے چوتیے تیرے جیسے گانڈ میرے ساتھی نہیں ہو سکتے حرام کے جنے ۔۔۔۔۔

میں نے رک کر پھر اس کی پھینٹی شروع کر دی اور خوب درگت بنائی۔۔۔۔

ناصر آگے بڑھا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا چل بس کر یار چھوڑ دے گانڈو کو اس کی اچھی خاصی ہو گئی ہے۔۔۔۔

پھر ہم دونوں گلے ملے باقی سب کی تو بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔۔

شاکر کو ناصر نے کہا آج کے بعد مجھے یہ پتہ چلا کہ تو نے بلو کا نام لے کر کسی کو ڈرایا ہے یا کسی کے ساتھ بیغیرتی کی ہے تو تیری گانڈ میں پٹرول ڈال کر آگ لگا دوں گا۔۔۔۔

ناصر کے ساتھ کچھ اور لڑکے بھی تھے جن کو میں نہیں جانتا تھا ان سب کے جانے کے بعد ناصر نے ان سے مجھے ملوایا ۔۔۔۔

ان میں سے ایک وہ تھا جو دارے خاں کے ساتھ ملا ہوا تھا جس کے ذریعے ساری معلومات ملتی تھیں۔۔۔

دوسرا وہ تھا جس نے اس کے سارے ٹھکانوں کا پتہ دیا تھا اور تیسرہ وہ لڑکا تھا جس کی مدد سے ہم نے ہڑپہ میں لڑکیوں کو بازیاب کروایا تھا۔۔۔۔۔

ہم کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہے ناصر نے کھانا بھی منگوایا ہم نے کھانا کھایا اور پھر میں اس سے اجازت لے کر نکلنے لگا تو ناصر نے کہا بلو یار پچھلے دنوں میں نے ایک وقعہ سنا میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔۔

میں نے اس سے ساری بات سنی تو میری بھی وہی حالت ہوئی جو ناصر بتا رہا تھا۔۔۔۔

ناصر سے اس بارے میں بات کی پھر مشورہ کیا اس کے بعد ہم نے ایک پلان ترتیب دیا۔۔۔

شاہد اور ارشد کو بھی بلا لیا پھر کافی دیر تک ہم اس معاملے پر بات چیت کرتے رہے۔۔۔

ان سب نے متفقہ طور پر میرے کندھے پر بندوق رکھ دی اور مجھے آگے رہنے کا کہا۔۔۔

اب مجھے ہی سرنگ بنانی تھی اس سرنگ میں اترنا بھی مجھے تھا پھر ساری معلومات اکٹھی کرنی تھیں اور پکا ہاتھ ڈالنا تھا۔۔۔۔۔

میں دماغ لڑاتا رہا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں خیر۔۔۔

اس سب کے باوجود میرے لیے ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ ہم پھر سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے تھے ۔۔۔۔

ایک دن پہلے تک میں سوچ چکا تھا جو بھی کرنا پڑے گا اکیلے ہی کرنا پڑے گا لیکن اب میں خوش تھا کہ ہم سب دوست پھر سے ایک ساتھ ہیں ہمارا ایک ہی مقصد ہے۔۔۔۔

ان کے پاس سے اٹھ کر میں چاچا کے گھر جانے لگا رستے میں مجھے یاد آیا کل اتوار ہے۔۔۔۔

میں گھر گیا کتابیں رکھیں فرحی کا موڈ آج بھی خراب تھا پتہ نہیں اس کو کیا ہوا تھا جو بھی ہوا تھا میں اس سے پوچھ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

چاچی نے کھانے کا پوچھا تو میں نے کہا وہ میں کھا کر آیا ہوں۔۔۔

چاچی نے بھی کوئی خاص بات نہ کی اور نہ دوبارہ کھانے کا پوچھا۔۔۔

ان دونوں ماں بیٹی کا انداز مجھے چبھ رہا تھا میں نے ایک منٹ میں ہی فیصلہ کر لیا کہ میں وہاں نہیں رہوں گا۔۔۔۔

میں نے اپنا سامان پیک کیا اور بیٹھک سے باہر نکل کر چاچی سے جانے کی اجازت مانگی ۔۔۔۔

چاچی نے بغیر کوئی سوال کیے مجھے جانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔

مجھے بڑا دکھ ہوا ابا جی نے کس مان سے مجھے وہاں چھوڑا تھا ۔۔۔۔

چاچی کا رویہ بتا رہا تھا کہ ان کو میرا وہاں رہنا پسند نہیں اس لیے وہ ایسا کر رہی ہیں ۔۔۔۔

میں وہاں سے نکلا اور اس مکان میں چلا گیا جو اب سے میری ملکیت تھا ۔۔۔۔

مکان میں داخل ہوا تو مکان چمک رہا تھا صاف ستھرا ہر چیز ایک قرینے سے سجائی گئی تھی۔۔۔۔

میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ جب میں آخری بار وہاں آیا تھا تو مکان میں اتنی صفائی نہیں تھی۔۔۔

میں نے اب حیران ہونا چھوڑ دیا تھا اس لیے بغیر کچھ سوچے بیڈ روم میں گیا اور کپڑے نکال کر الماری میں سیٹ کیے ۔۔۔

پھر کپڑے بدل کر لیٹ گیا اور موبائل نکال کر ناصر لوگوں کو اس مکان کا بتایا اور کہا کہ اب سے میں یہاں رہوں گا۔۔۔۔

ان لوگوں نے مجھے مبارک دی اور آج رات ملنے کا وعدہ کیا۔۔۔۔

میں نے ٹی وی آن کیا اور ایک مویز چینل لگا کر مووی دیکھنے لگا۔۔۔

مووی کے سین دیکھ کر میرا رونگٹا کھڑا ہونے لگا میں نے چینل بدلا لیکن رونگٹا مجھے پھر اسی چینل پر لے گیا۔۔۔۔

مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا تھا میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی کوئی مل جائے اور اس کی پھدی میں اپنا لاوا اگل دوں۔۔۔۔

کافی دیر تنگ ہوتا رہا ہنی کو کال کی اس نے فون نہ اٹھایا میرے دماغ میں رباب کا سیکس سے بھرپور جسم آ گیا۔۔۔۔

لیکن میں اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا تھا میں نے فیصلہ کیا کہ شاہ کی امی نے جو نمبر دیا تھا اس نمبر پر رابطہ کرنا چاہئیے۔۔۔۔

لیکن کوئی رابطہ نہ ہو سکا ان کا خیال آتے ہی مجھے رستہ مل گیا سرنگ کا دہانہ نظر آنے لگا۔۔۔۔

یہ الگ بات ہے کہ پہلے مجھے سرنگ میں سانپ واڑنا پڑے گا پھر سرنگ میں روشنی ہو گی۔۔۔۔

اب اصل مقصد تھا کہ اس تک پہنچا کیسے جائے ۔۔۔

علینہ سے کیسے رابطہ کیا جا سکتا تھا اس کے لیے میں نے بارش سے رابطہ کیا اور پھر اس سے پوچھا شاہ کو اس رات کہاں چھوڑ کر آئے تھے۔۔۔۔

بارش نے مجھے ایک منٹ کا وقت دیا اور کہا کہ وہ ابھی پتہ کرکے بتاتا ہے۔۔۔

ایک منٹ میں ہی اس کا فون آ گیا اس نے مجھے ایڈریس بتایا وہ تاندلا منڈی کے پاس کسی گاؤں کا تھا۔۔۔۔

بارش نے ایک اور بات بتائی اس نے کسی شراب کشید کرنے والے کا ٹھکانہ دیکھا ہے۔۔۔۔

میں نے اس سے کہا کہ اڑا دو اس کو اور اس کی بھٹی کو بھی تباہ کر دو باقی مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔۔

بارش نے بتایا کہ وہ پہلے ہی کر چکا تھا وہ اپنے کام کو بخوبی سر انجام دے رہا تھا۔۔۔۔

شام تک میں ایسے ہی لیٹا وقت گزارنے کی کوشش کرتا رہا۔۔

مجھے بھوک محسوس ہوئی تو میں نے بائیک نکالی اور کسی ہوٹل کی تلاش میں نکل پڑا۔۔۔۔

اتنے عرصے میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں کسی ہوٹل سے کھانا کھانے کے لیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔

ایک اچھا سا ہوٹل نظر آیا میں اس ہوٹل میں داخل ہو گیا اور خالی ٹیبل دیکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔

ویٹر اس کو کھانا آرڈر کیا اور موبائل کھول کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

میں کھانے کا انتظار کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک ادھیڑ عمر کا آدمی آ کر بیٹھ گیا اس نے سلام کیا میں نے جواب دیا۔۔۔۔

اس نے کہا اکیلے اکیلے ہی کھا رہے کو کبھی اکیلے کھانا نہیں کھانا چاہئیے۔۔۔

میں اس بزرگ کو بھی کھانے کی آفر کی اس نے بلا جھجھک ہاں کر دی۔۔۔

میں نے ویٹر کو اشارہ کیا ویٹر آیا تو اس کو اس آدمی نے ایک لمبا چوڑا آرڈر دے دیا۔۔۔۔

کھانا آیا ہم کھانا کھانے لگے اس آدمی کو دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ جو کھانا ہم تین چار لوگ کھا سکتے تھے وہ اکیلا چٹ کر گیا۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد اس نے ویٹر کو اشارہ کیا اور آئس کریم منگوا لی ۔۔۔۔

ہم نے آئس کریم کھائی وہ بزرگ شکر ادا کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کھانے سے زیادہ تمہارا دل اچھا ہے، اس کو اچھا ہی رہنے دو کچھ لوگ تمہارے خلاف شطرنج کا کھیل رچا رہے ہیں ان سے ہوشیار رہنا۔۔۔۔

میں اس سے کچھ پوچھتا وہ وہاں سے نکل گیا میں اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔۔

میرا بھی کھانا ہو گیا تھا اصلی طور پر اب میرا وہاں کوئی کام نہیں تھا لیکن پھر بھی میں وہاں بیٹھا رہا۔۔۔۔

ویٹر آیا اس نے میرے سامنے بل رکھ دیا جو اس بات کا عندیہ تھا کہ اب آپ اپنی شریفاں کو لے کر یہاں سے دفعان ہو جاو۔۔۔۔

میں بل دیکھ کر چونک گیا تھا چار ہزار کا بل تھا میں نے کوئی بھی ردعمل دئیے بغیر بل ادا کیا اور ویٹر کو ٹپ بھی دے دی اور وہاں سےنکلنے لگا۔۔۔۔

جیسے ہی میں گیٹ پر آیا مجھے ایک شناسا سی آواز سنائی دی۔۔۔۔

میں نے آواز کی سمت دیکھا تو وہ مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی۔۔۔۔

رباب گل اور اس کے ساتھ ایک بزرگ موجود تھے ساتھ مہتاب بھی تھی۔۔۔۔

مجھے رباب نے آواز دی تھی میں ان کے پاس چلا گیا۔۔۔

رباب کے پاپا سے ہاتھ ملایا رباب نے بھی ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔

اس کے بعد مہتاب سے بھی ہاتھ ملایا۔۔۔

مہتاب سے اپنے پاپا سے میرا تعارف کروایا رباب نے بھی بتایا کہ میں اب اس کا کلاس فیلو ہوں اور مہتاب نے بتایا کہ میں اب اس کا سٹوڈنٹ ہوں۔۔۔۔۔

وہ مجھے اپنے گھر لے جانے کے کیے بضد تھے لیکن میں مسلسل انکاری تھا۔۔۔۔

میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا بائیک تک گیا اور بائیک سٹارٹ کرے اپنے نئے ٹھکانے کی طرف چل پڑا۔۔۔۔

ٹاؤن میں ڈاخل ہوا تو مجھے لگا کہ کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔

لیکن سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے گھر کے سامنے جا کر رکا اور چابی سے گیٹ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔

گیٹ بند کرکے میں کمرے میں گیا اور سو گیا رات کا کوئی وقت تھا میں گہری نیند میں تھا میرے فون پر کال آنے لگی۔۔۔۔

میں نے نمبر دیکھا کوئی انجان نمبر تھا میں نے کال رسیو کی تو دوسری طرف کوئی نسوانی آواز تھی۔۔۔۔

بہت ہی آہستہ آہستہ بول رہی تھی مجھے اس کی بات سمجھنے کے لیے پوری طرح ہوش میں آنا پڑا۔۔۔

میں پوری طرح آنکھیں ملتے ہوئے نیند سے بیدار ہوا اور فون سننے لگا۔۔۔

دوسری طرف علینہ تھی جو بڑی ہی مدھم آواز میں بول رہی تھی جیسے کسی سے چھپ کر بات کر رہی ہو۔۔۔۔

میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا علینہ اس وقت سب خیریت تو ہے۔۔۔

اس نے کہا سب خیریت ہے بس دل کر رہا تھا کہ تم سے بات کروں اس لیے فون کر لیا۔۔

علینہ اپنے پیار کا اظہار کرنے لگی میں بھی اس کو تسلیاں دینے لگا۔۔۔

ویسے بھی مجھے اس کی ضرورت تھی اس کے ذریعے میں سرنگ بنا سکتا تھا۔۔۔۔

علینہ نے باتوں باتوں میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس کا بڑا دل کرتا ہے۔۔۔

میں نے کہا کیا کرنے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔

علینہ نے کہا وہی جو اس دن کیا تھا ۔۔۔

میں نے کہا کھل کر کہو کیا کہنا چاہ رہی ہو اس طرح پتہ نہیں چل سکتا۔۔۔

علینہ بولی تم سمجھ جاؤ میں جو کہنا چاہ رہی ہوں۔۔۔

میں نے کہا کیسے سمجھ جاؤں جو تم کہنا چاہ رہی ہو۔۔۔

علینہ نے کہا مجھے پتہ ہے تمہیں سب سمجھ آ رہی ہے ۔۔۔

میں نے کہا کس چیز کی سمجھ آ رہی ہے صاف صاف بولو۔۔۔

علینہ نے چڑ کر کہا مجھے نہیں پتہ ۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا لو بھلا اس میں چڑنے والی کونسی بات ہے ہمارے درمیان کیسا پردہ۔۔۔۔

علینہ نے کہا پردہ تو تم نے ختم کر دیا تھا اب میں کیا کہوں میرا کیا دل کر رہا ہے۔۔۔۔

میں نے کہا تمہارا دل کر رہا ہے کہ میرا لن اپنی چھوٹی سی پھدی میں لو اور میں اندر باہر کروں۔۔۔

علینہ نے کہا گندہ اور فون بند کر گئی۔۔۔

اس کے بعد نیند تو آنی نہیں تھی اس لیے میں نے اٹھ کر کچن کر رخ کیا یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی چیز تو ہو گی۔۔۔۔

کچن میں گیا کچن فریج کھول کر دیکھا تو فریج میں کافی سارا فروٹ اور دودھ کے پیکٹ بھی موجود تھے۔۔۔

میں نے کیلے اٹھائے اور دودھ کا گلاس بھر لیا کیلے کھا کر دودھ پیا اور واپس بیڈ روم میں آ گیا۔۔۔۔

دل میں پتہ نہیں کیا آیا کہ چھت پر چلا گیا کیونکہ یہ سنگل فلو گھر تھا چھت پر صرف چاردیواری کی گئی تھی۔۔۔

چھت پر آ کر دائیں بائیں دیکھنے لگا گلی والی سائیڈ پر آیا مجھے گھر سے کچھ دور ایک گاڑی کھڑی نظر آئی۔۔۔۔

دماغ کے کسی کونے میں خیال پیدا ہوا کہ یہ گاڑی مشکوک ہے۔۔۔۔

میں تیزی سے نیچے آیا اور الماری سے پستول نکال کر چیک کیا اور پھر بڑی آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔

گھر کے ساتھ کوئی گھر نہیں تھا اس لیے خالی پلاٹ میں ہو گیا اور جھک کر چلتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔

بہت احتیاط سے چلتے ہوئے گاڑی کے قریب گیا جب گاڑی میں جھانک کر دیکھا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔

گاڑی کے اندر تو پوری ایک فلم چالو تھی یمن کٹیتا ہو رہا تھا۔۔۔۔

ایک ننگی لڑکی لیٹی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ایک لڑکا سوار تھا اور زور زور سے ہل رہا تھا۔۔۔۔

میں نے گاڑی کے شیشے کے قریب ہو کر اندر دیکھا تو وہ دونوں اپنی مستی میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔۔

فرنٹ سیٹ کو پیچھے کیا ہوا تھا اور اس پر لڑکی لیٹی ہوئی تھی کو کپڑوں سے آزاد تھی ۔۔۔۔

لڑکے کے نچلا دھڑ ننگا تھا اور اوپر ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔

میں جھک کر دیکھنے لگا لڑکی کی آنکھیں بند تھیں اور لڑکا لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔

میں کوئی دو منٹ تک یہ سین دیکھتا رہا یکدم لڑکا کچھ زیادہ ہی زور سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔

لڑکی کا چہرہ پوری طرح میرے سامنے نہیں تھا لڑکے کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔

یہ سب دیکھ کر میرا لن اکڑ چکا تھا پچھلے کئی دن سے پھدی کے لیے ترس رہا تھا اس لیے میرا دل کیا اس لڑکے کو دفعہ کروں اور لڑکی کی پھدی میں لن گھسا دوں۔۔۔۔

میری سوچوں کے دوران ہی لڑکے نے لن باہر نکالا اور اس کے پیٹ پر منی نکال دی۔۔۔

وہ اپنے کام سے فارغ ہو گئے تو میں نے پستول سے شیشے پر ٹک ٹک کی۔۔۔

وہ دونوں چونک گئے لڑکی نے جلدی سے اپنے کپڑے ڈھونڈے اور پہننے لگی۔۔

میں دوسری بار ذرہ ذور سے شیشہ ناک کیا تو لڑکے کو میرے ہاتھ میں پستول نظر آیا۔۔۔

میں نے اشارے سے دروازہ کھولنے کا کہا وہ ڈر رہا تھا میں نے خود ہی ڈور لاک کو پکڑ کر دروازہ کھولا تو کھلا گیا۔۔۔۔

میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور پستول ان کی طرف کر دیا۔۔۔۔

لڑکا لڑکی کے سامنے جھکا اپنی پینٹ پہن رہا تھا ۔۔۔

لڑکی کو میں نے نظر بھر کر دیکھا تو مجھے لگا میں نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے لڑکا برحال انجان تھا۔۔۔۔

لڑکی کو کپڑے پہننے دئیے جب اس نے کپڑے پہن لیے تو میں نے ان دونوں کو ایک ہی سیٹ پر بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔

لڑکا کانپ رہا تھا اس کو کوئی بات نہیں ا رہی تھی ۔۔۔

میں نے جب ان کو کپڑے پہنے دیکھ لیا تو میں نے کہا۔۔۔

دونوں اسی ٹاؤن کے ہو یا کسی اور جگہ کے ہو۔۔۔

لڑکی نے ہکلاتے ہوئے کہا میں یہاں رہتی ہوں اور یہ کہیں اور ۔۔۔۔

لڑکی دیکھنے میں خوبصورت تھی جسم بھی اس کا دیکھ چکا تھا ۔۔۔

چھتیس کے ممے تھے پتلی کمر بے داغ جسم پتلے پتلے ہونٹ گہری بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔۔

میں نے اس کو کہا جاؤ اس سے پہلے کہ کوئی اور آ جائے اور تمہیں یہاں دیکھ لے۔۔۔

اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔۔۔

میں نے کہا جاؤ اور آئندہ اس طرح سر راہ کچھ بھی کرنے سے گریز کرنا اگر زیادہ ہی دل کر رہا ہو تو کوئی محفوظ جگہ ہونی چاہئیے ورنہ بعد میں بدنامی بھی اسی طرح ہوتی ہے ہر کوئی باتیں سنا جاتا ہے۔۔۔

اس نے کچھ نہ کہا اور سر جھکا کر گاڑی سے نکل گئی۔۔۔

اس کے جانے کے بعد میں نے لڑکے سے کہا دیکھ بھائی بات بڑی سادہ سی ہے تم دونوں مرضی سے کر رہے تھے یا تم اسے بلیک میل کر رہے تھے۔۔۔

لڑکے نے ڈرتے ڈرتے کہا ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔۔۔۔

میں نے ڈانٹ کر کہا میں نے دیکھا جو پیار کر رہے تھے جتنا گہرا پیار ہے وہ مجھے نظر آ رہا تھا۔۔۔

میں نے صرف یہ پوچھا ہے کہ تم اس کو بلیک میل کر رہے ہو یا اس نے اپنی مرضی سے کیا ہے۔۔۔

وہ اسی طرح ڈرتے ہوئے بولا اپنی مرضی سے ہی کیا ہے میں نے اس کو ڈرایا نہیں ہے۔۔

میں نے اس کو کہا میں اسی ٹاؤن میں رہتا ہوں اگر مجھے ذرہ سا بھی شائبہ گزرہ کہ تم اس کو بلیک میل کر رہے ہو تو پھر تمہاری خیر نہیں گولی ایسی جگہ ماروں گا کہ دوبارہ کسی کے ساتھ کرنے کے قابل نہیں رہو گے۔۔۔۔

میں گاڑی سے نکلا اور اس کو جانے کا اشارہ کیا اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور لائٹس بند کیے ہوئے ہی وہاں سے نکل گیا۔۔۔

میں واپس گھر آیا صبح ہونے میں کچھ ہی وقت تھا شاید میں نے ٹائم دیکھا تو چار بج رہے تھے۔۔۔

میں نے سونے کی کوشش کی جس میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔

اپنے وقت پر آنکھ کھل گئی میں ٹراوزر شرٹ پہن کر باہر نکلا اور واک کرنے لگا۔۔۔۔

پورے ٹاون کا ایک لمبا چکر لگایا اور پھر ٹاون کے پارک میں جا کر ایکسر سائز کرنے لگا۔۔۔۔

اچھی طرح خود کو پسینے میں بھگو کر میں واپس گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔

گھر آ کر کچن میں گھسا مجھے کچھ پکانا تو آتا نہیں تھا اس لیے دودھ اور کیلے کا شیک بنانے کی کوشش کی جس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا۔۔۔۔

شیک پی کر جسم میں کچھ انرجی بحال ہوئی میں نہایا اور کپڑے بدل کر ناشتہ کرنے کے لیے نکل پڑا۔۔۔۔

ایک ناشتہ پوائنٹ سے ناشتہ کیا اور واپس گھر آ گیا۔۔۔

مجھے اپنی زندگی بے کار سی لگ رہی تھی اکیلا پن محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔

میں گاؤں جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے میسج وصول ہوا۔۔۔۔

میں نے مسیج کھول کر دیکھا تو رباب کا میسج تھا اس نے مجھے شام کو اپنے گھر بلایا تھا اور ساتھ یہ لکھا تھا کہ یہ میں نہیں کہہ رہی بلکہ آپی مہتاب نے کہا ہے۔۔۔۔

میں نے گاوں جانے کا پلان کینسل کر دیا اور سوچنے لگا کہ میرے لیے پھدیاں لگتا ہے ختم ہو گئی ہیں۔۔۔

ایک امید لے کر میں اپنے پرانے ٹاؤن کی طرف چل پڑا ویسے بھی مجھے وہاں طارق اور افرا کے تعلق کا بھی پتہ کرنا تھا۔۔۔۔

رابطہ اس سے ہو نہیں پا رہا تھا طارق کا یہاں کسی کو کوئی علم نہیں تھا۔۔۔

میں آہستہ اہستہ بائیک چلاتے ہوئے ٹاؤن میں داخل ہوا ۔۔۔۔

گلی در گلی پھرنے لگا آنٹی بسمہ کے گھر کے سامنے سے بھی گزرہ لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ۔۔۔۔

مجھے تہمینہ کا خیال آیا میں بلوچ ہاوس کی طرف گیا گیٹ پر تالا نہیں تھا۔۔۔۔

میں رک گیا اور بیل بجائی مجھے ایک جھٹکا لگا اندر سے جو آواز آئی وہ ہنی کی تھی۔۔۔۔

اس نے پوچھا کون میں کوئی جواب نہ دے پایا اس کی آواز سن کر ہی مجھے چپ لگ گئی تھی۔۔۔۔

اس نے پھر پوچھا کون۔۔؟؟

میں نے اپنا نام بتایا۔۔۔

جھٹ سے دروازہ کھل گیا ہنی نے کہا تم یہاں کیا کر رہے ہو بتانا تو چاہئیے تھا کہ تم آ رہے ہو امی گھر پر ہیں جاؤ۔۔۔۔

میں ہنستے ہوئے کہا تم سے نہیں تمہارے بھائی سے ملنے آیا ہوں۔۔۔

اس نے کہا وہ گھر پر نہیں ہیں وہ لاہور گئے ہوئے ہیں پتہ نہیں کب آئیں گے ہم بھی آج صرف سامان وغیرہ لینے آئے ہیں گاؤں شفٹ ہو رہے ہیں۔۔۔۔

میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا کہ اس نے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔

میں کھڑا سوچتا رہا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤں۔۔۔

میں بائیک پر بیٹھا اور سٹارٹ کی تو اسی وقت دروازہ کھلا اور تہمینہ باہر نکلی اور میرے پیچھے بائیک کر بیٹھ کر کہا چلو مجھے مارکیٹ تک چھوڑ دو۔۔۔۔

ایک سیکنڈ میں میرے دماغ میں منی چڑھ گئی میں نے سوچا آج اگر اس کی پھدی نہ ماری تو پھر کوئی اور بھی نہیں ملنی۔۔۔۔

میں بائیک کا گیئر لگایا اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا اور سیدھا اپنے نئے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔

تہمینہ نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے مجھے پکڑ رکھا تھا کیونکہ میں بڑی سپیڈ سے بائیک چلا رہا تھا۔۔۔۔

جلد ہی میں گھر کے سامنے کھڑا تھا میں بائیک سے اترا اور دروازہ کھولا تہمینہ کو اندر جانے کا کہا۔۔۔

وہ تو جیسے پہلے ہی تیار تھی اس لیے اندر چلی گئی۔۔۔

میں نے اندر سے بڑا گیٹ کھولا اور بائیک اندر لے گیا۔۔۔

دروازہ بند کیا اور تہمینہ کو لے کر ٹی وی لاونج میں آگیا وہاں آتے ہی میں نے تہمینہ کو پکڑ لیا اور کسنگ کرنے لگا۔۔۔۔

کسنگ شروع کرتے ہی اس نے کہا میرے پاس ٹائم کم ہے اس لیے جلدی کرو ۔۔۔

میں نے اس کی قمیض اتارنا چاہی تو اس نے کہا تم بس اندر کرو یہ اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔

میں نے اپنی پینٹ نیچے کی اور لن نکال لیا پھر تہمینہ کو صوفے پر لٹا کر اس کی شلوار اتار دی۔۔۔۔

اس کی پھدی کو ہاتھ لگا کر چیک کیا تو گیلی تھی میں نے اس کے اوپر آتے ہوئے لن پھدی پر رکھا اور ایک زوردار گھسہ مار کر لن اندر کر دیا۔۔۔۔

تہمینہ کے منہ سے سیییی کی آواز نکلی آدھا لن اندر گھس چکا تھا میں نے لن کو پیچھے کھینچ کر پھر ویسے ہی گھسہ مارا اور سارا لن اندر کر دیا۔۔۔۔

تہمینہ کے منہ سے چیخ نکل گئی اس نے چیختے ہوئے کہا کھوتے جڈا لن اکو واری پا دتا ای آرام نیں کر ہندا تیرے کولوں۔۔۔۔

میں نے پھر لن کو کھینچا اور اسی طرح اندر گھسا دیا۔۔۔

دو تین بار ایسے ہی گھسانے کے بعد جب اس کی آہ و بکا کم ہوئی تو میں نے پھر گھسوں کی مشین چلا دی۔۔۔

تہمینہ کے منہ سے جلد ہی مزے بھری سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔۔

میں نے اس کے مموں کو قمیض کے اوپر سے ہی دبانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

فور پلے نہ ہونے کی وجہ سے مزہ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

میں نے اس کی قمیض کو فولڈ کرکے مموں سے اوپر کر دیا اور ممے ننگے کر دئیے۔۔۔۔

اس کے ممے ویسے کے ویسے ہی تھے ایک دم کڑک اکڑے ہوئے۔۔۔

میں اس کے اوپر جھک گیا اور اس کا ایک مما منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔۔

نپل کو دانتوں میں لیا اور کاٹنے لگا تہمینہ تڑپنے لگی میں بھی جوش میں نپل کو کھینچ رہا تھا۔۔۔۔

نیچے سے موٹا لمبا لن تاڑ تاڑ اس کی پھدی کی گہرائی ناپ رہا تھا۔۔۔۔

تہمینہ کی جان پر بن آئی وہ سر کٹے مرغے کی طرح تڑپنے لگی۔۔۔۔

ایک ہاتھ سے ایک ممے کو دبا رہا تھا تو دوسرے کے نپل کو دانتوں سے کھینچ رہا تھا۔۔۔۔

اس کی بس ہو چکی تھی اس کا جسم اکڑ گیا اس نے ذور زور سے کرنے کا کہنا شروع کر دیا۔۔۔۔

میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا اس کی پھدی میں ایسے لن گھسا رہا تھا جیسے بور والے بور میں پائپ گھساتے ہیں۔۔۔۔

اچھل اچھل کر لن کو پھدی کی گہرائی میں اتار رہا تھا۔۔۔۔

تہمینہ نے آہہہہہہہ۔۔۔۔ افففففف مار دتتتا اییییییی ۔۔۔۔آہ آہ آہ اہ اوووووں کرتے ہوئے میرے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ لیں۔۔۔۔

اس کی پھدی نے میرے لن کو جکڑا اس کی ٹانگوں نے مجھے جکڑ لیا۔۔۔۔

میرے گھسے رک گئے لن اس کی پھدی میں پھنس کر رہ گیا۔۔۔۔

تہمینہ کا جسم اچھلا وہ تڑپنے لگی میرے لن پر گرم گرم پانی چاروں طرف سے آ کر گرنے لگا۔۔۔۔

تہمینہ کی پھدی نے میرے لن کو نہلا دیا جب وہ مکمل طور پر فارغ ہو گئی تو میں نے پھر سے پھدی کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔

کچھ دیر تہمینہ کو محسوس نہ ہوا لیکن جب میرا لن اس کی پھدی کے پانی کو خشک کرنے لگا تو اس کی چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔۔

میں نے اس کی ٹانگوں کے اس کے بڑے بڑے مموں کے ساتھ لگا لیں اور اس کو دونوں کندھوں کو تھام لیا۔۔۔

پھر میں نے تواتر سے زور زور سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔

تہمینہ کی چیخیں نکلنے لگیں اس کا گلا خشک ہو رہا تھا اس پر کھانسی کا دورہ پڑا۔۔۔۔۔

میں بھی فارغ ہونے والا تھا اس لیے مجھے اس کے درد کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔

میں نے تہمینہ کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔

میری زبان اس کی زبان سے گتھم گتھا ہو گئی اور لن پھدی کو دھو رہا تھا۔۔۔۔

تہمینہ کے ہاتھ ایک بار پھر سے میری کمر پر آ گئے وہ پھر سے مزے میں آگئی تھی۔۔۔۔

میرا سارا خون لن کی طرف دوڑنے لگا میرا سانس بھی پھول رہا تھا۔۔۔۔

میں نے اپنا سارا زور لگا کر لن گھسانا شروع کر دیا تھا۔۔۔

اگر ہمارے ہونٹ آپس میں نہ ملے ہوتے تو تہمینہ کی چیخیں گھر سے باہر تک سنائی دینی تھیں۔۔۔۔

مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں ہواؤں میں ہوں مزے کی بلندیوں کو چھونے لگا۔۔۔

سارا جسم سرور میں ڈوب چکا تھا لن اکڑ کر پھٹنے والا ہو گیا تھا۔۔۔۔

میں نے پھولے سانسوں کے ساتھ تہمینہ کی پھدی کی گہرائی میں لن گھسانا جاری رکھا۔۔۔۔

جب مجھے لگا کہ منی نے لن کی ٹوپی کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے میں نے جلدی سے لن باہر نکالا اور اچھل کر لن اس کے منہ میں گھسا دیا۔۔۔۔

تہمینہ کو سمجھ نہ آئی اس پر کیا بیتنے والی ہے لن اس کے منہ میں گھسا کر میں نے لن پر تیز تیز ہاتھ چلایا۔۔۔۔

لن نے اپنا لاوا اگلنا شروع کر دیا تہمینہ کی باچھوں سے منی بہنے لگی۔۔۔

تہمینہ کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا ساری منی تہمینہ کے منہ میں نکال دی۔۔۔۔

جب جسم کی ساری گرمی نکل گئی تو میں اس کے اوپر سے اتر کر ایک طرف نڈھال ہو کر صوفے پر ڈھ گیا۔۔۔۔

کچھ دیر سانسیں بحال ہونے میں لگی جب آنکھیں کھول کر دیکھا تو تہمینہ کھڑی مجھے گھور رہی تھی۔۔۔

وہ واش روم سے اپنا منہ دھو کر آئی تھی اور کپڑے ٹھیک کر چکی تھی۔۔۔

اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ابھی ٹائم نہیں ہے ورنہ میں تمہیں بتاتی جو تم نے کیا میرے ساتھ کیا ہے۔۔

میں مسکرایا اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

تہمینہ میرے پاس آئی اور میرے لن کو دیکھتے ہوئے نیچے بیٹھی اور بولی اگر تمہارا لن اتنا تگڑا نہ ہوتا تو میں تمہیں منہ نہ لگاتی۔۔۔۔

اس نے لن کو مٹھی میں بھر کر دبایا اور کھینچ کر کہا چلو اب مجھے چھوڑ کر آو باجی میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔

اس کی بات سن کر مجھے بھی یاد آیا کہ وہ تو مارکیٹ جا رہی تھی اور میں اسے یہاں لے ایا جلدی سے لن کو اندر کیا اور اپنا حلیہ ٹھیک کرکے بائیک باہر نکالی۔۔۔

بہت تیزی سےبائیک چلاتے ہوئے اس کو مارکیٹ کے پاس چھوڑ کر واپس آ گیا اور مل مل کر نہایا اور نہا کر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں ڈوب گیا۔۔۔

پھر جب آنکھ کھلی تو میرا فون بج رہا تھا رباب کی کال تھی اس نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتایا۔۔۔

اس کے گھر کا ایڈریس سن کر میں حیران ہوا کیونکہ وہ تو میرے قریب ہی رہتی تھی۔۔۔

اسی گلی میں اس کا گھر تھا رات لڑکے اور لڑکے کو لن پھدی کا کھیل کھیلتے ہوئے جہاں پکڑا تھا اس سے دو پلاٹ چھوڑ کر اس کا گھر تھا۔۔۔

میں ایک بار پھر نہا کر فریش ہوا اچھا سا سوٹ زیب تن کیا پرفیوم لگایا اور بائیک نکال کر اس پر سوار ہو کر اس کے گھر جانے کے لیے ایک لمبا چکر کاٹا۔۔۔۔

گھوم کر اس کے گھر کے پاس آیا دروزے کے سامنے بائیک روکی اور بیل دی۔۔۔۔

ایک منٹ میں دروازہ کھل گیا سامنے ایک بڑا ہی سوبر سا شخص موجود تھا۔۔۔۔

اس نے سوالیہ انداز سے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا صائم۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور میرا ہاتھ پکڑ اندر لے گیا۔۔۔

میں اس کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔

وہ مجھے ٹی وی لاونج میں لے گیا وہاں ایک ویل ڈریسڈ خاتون بیٹھی تھیں وہ بھی اس مرد کی طرح بڑی ڈیسنٹ لگ رہی تھیں۔۔۔

ان کو دیکھ کر ان کی حیثیت کا پتہ چل رہا تھا ۔۔۔۔

پڑھے لکھے ماڈرن لوگ تھے چہرہ شناس تو نہیں تھا نہ کی اتنا تجربہ رکھتا تھا لیکن ان کو دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ کھرے لوگ ہیں۔۔۔۔​

خاتون نے کھڑے ہو کر میرے سر پر پیار دیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔



Source link

Leave a Comment