تلاشِ زِیست 10

  حیرت کی بات تھی کہ رانا کسی بھی طرح کی بات نہیں کر رہا تھا۔ ہماری ہی طرح وہ بھی بھوکا اور پیاسا تھا۔ لیکن وہ ہم سب کی طرح شور نہیں مچا رہا تھا۔  رانا کا اسٹائل مجھے اچھا لگا۔ اس کا خاموش چہرہ شانتی سے بھرا تھا اور وہ خوفزدہ بھی نہیں … Read more

تلاشِ زِیست 07

  اب ہم ایک خطرے سے باہر آ گئے تھے۔ اور اس وقت ہم آگے آنے والے خطرے کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ اس وقت ہمارے لیے خود کو بحال کرنا زیادہ ضروری تھا۔ اور پہلے اسٹیج کے پار ہو جانے کی خوشی منانی تھی۔ آگے اگر ہمارے لیے موت کے ان گنت … Read more

تلاشِ زِیست 08

  لیکن جنگل میں آگ جلانے کے لیے ہمارے پاس سگریٹ لائٹر نہیں تھا۔ گارڈ کے سامان میں وہ ملنا چاہیے تھا۔ اس کے بغیر تو ہمیں بڑی پریشانی ہو جائے گی۔  راجہ: سنجے، جس گارڈ کو ہم نے مارا تھا، کیا اس کے پاس سے سگریٹ لائٹر نہیں ملا؟  سنجے: ملا تھا۔ کیوں، کیا … Read more

تلاشِ زِیست 05

  جان بچانے کا حق صرف ہم تینوں کو ہی تو نہیں تھا۔ اگر ہمارے ساتھ ایک اور قیدی اگر مل بھی گیا تھا تو ہم برا کیسے مان سکتے تھے۔ آخر وہ بھی تو ہماری ہی طرح یہاں پر جبراً قید کیا گیا ایک انسان ہی تھا۔  چٹان کی آڑ میں آتے ہی ہم … Read more

تلاشِ زِیست 06

  سنجے درد کے مارے تڑپ رہا تھا۔ ایک بار پھر سے مشین گن کا ٹریگر دبانا اس کے لیے مشکل تھا۔ کندھا جو ہل گیا تھا۔ لیکن اس بار وہ جھٹکے سے بچ جائے گا، کیونکہ میں نے مشین گن کی بیلٹ کو سنجے کی طرح اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اب سنجے کی … Read more

تلاشِ زِیست 03

  دلدل اور زہریلے کانٹے بھی تھے اس جنگل میں۔ اکثر قیدی اس دلدل اور زہریلے کانٹوں سے بچ بھی جاتے تھے، لیکن پھر بھوک اور پیاس کے مارے وہیں جنگل میں مرنے لگتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو جنگل سے بچ کر نکل بھی جاتے تھے، لیکن جیسے ہی جنگل سے باہر نکلتے، … Read more

تلاشِ زِیست 04

  7 سالوں سے میں سوچ ہی تو رہا تھا۔ اب کرنے کا وقت آیا تھا تو پیچھے ہٹنا صحیح نہیں تھا۔ اب نہیں تو پھر کبھی بھی نہیں۔ یہی سوچ کر میں نے سنجے اور ظہیر کو گرین سگنل دے دیا۔  میرے سگنل ملتے ہی دونوں کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ اور ان کے … Read more

تلاشِ زِیست 02

  میرا نام راجہ ہے اور اس وقت میری عمر 19 سال ہے۔ جہاں اس وقت میں موجود تھا، وہ ایک جزیرہ تھا۔ اور اس جزیرے پر پھنسے ہوئے مجھے 7 سال ہو گئے تھے۔ میں 12 سال کا تھا جب مجھے یہاں اغوا کر کے لایا گیا تھا۔  میں تو یہ بھی نہیں جانتا … Read more

تلاشِ زِیست 01

  کہتے ہیں کہ جن کے لیے دل میں جگہ بن جائے، ان کی یاد مرتے دم تک نہیں بھولتی۔ میں تو ابھی مرا نہیں تھا۔ صرف بھوک کے ختم ہونے سےاور اب کھانا مل جانے  کی وجہ سے نیند آ رہی تھی۔ لیکن پھراچانک سے مجھے اپنے دوستوں کی یاد آنے لگی۔  اوہ! شِٹ!  … Read more

پہلا نشہ پہلا خمار 8

  اس لیئے اس نے میرے نپل کو اپنے منہ سے نکالا اور کہنے لگی۔۔۔ کیوں گرمی زیادہ آ گئی ہے؟  تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ میرا اشارہ دیکھ کر اس نے اپنے منہ سے زبان نکالی اور پھر دھیرے دھیرے میری پھدی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئی۔۔جبکہ میرا دل کر … Read more