گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 27)

لن شڑپ کر اس کی پھدی میں اتر گیا اس کے بعد میں نے آو دیکھا نہ تاو انے واہ گھسے مارے ۔۔۔۔ ہونٹ چھوڑ دئیے سیدھا کھڑا ہو کر اس کی ٹانگیں اٹھائے گھسے پر گھسا مارتا رہا۔۔۔ لگاتار 5 منٹ ایسے ہی لگا رہا اس دوران بسمہ ایک بار فارغ بھی ہوئی اس … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 28)

ایسے ہی مستی کرتے سکول ختم ہو گیا تھا لیکن اس شاہ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے ۔۔۔۔ یاروں کا یار تو تھا ہی لیکن یاروں کی سہیلیوں کا بھی یار بن جاتا تھا اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہر کوئی اس پر یقین کر لیتا تھا اندر سے کتنا کمینہ … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 12)

میرا لن چھنو کی پھدی میں اپنے گرم پانی سے چھڑکاو کر رہا تھا۔ چھنو کی پھدی میرے سخت اکڑے ہوئے لن کو اپنی نرم نرم شریانوں سے جکڑے نہلا رہی تھی ہم مزے میں ڈوبے ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے جسموں کی آگ بجھاتےجا رہے تھے۔ ابھی گرمی کا زور … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 22)

ہم ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے آپ کر سیراب کر رہے تھے کہ اندر کہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ۔۔ میں کس حالت میں تھا اسی میں رک گیا سانس تک روک لی شانزل کا حال میرے جیسا تھا وہ بھی ساکن ہو چکی تھی ۔ ہم یہ … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 23)

وہ دونوں تمہارے جانے کے بعد آ گئے ڈنگی نے صنم کی جم کر چودائی کی صنم کی آواز باہر گلی میں سنائی دی یا کسی نے جا کر صنم کی ماں کو بتایا یہ پتہ نہیں چلا یہ ضرور پتہ چلا کہ ڈنگی نے صنم کی گانڈ بھی ماری تھی جس کی وجہ سے … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 24)

میرے لن کا فائر ضائع گیا۔۔۔۔ جب میں نے گھسا مارا اسی وقت صنم یکدم آگے کو ہو گئی اور لن اپنا سا منہ کے کر رہ گیا۔۔۔۔ صنم نے اپنے ممے میرے منہ کے عین اوپر کر لیے اس کے لٹکتے ممے ان پر اس کے نپل پکے انگور کی طرح چمک رہے تھے۔۔۔ … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 21)

جو لڑکا وہاں آیا وہ پورے ٹاؤن کے لڑکوں کے لیے ممی ڈیڈی تھا اس کی وجہ اس کا کردار تھا وہ تھا بھی بہت خوبصورت بالکل لڑکیوں کی طرح تھا۔۔۔ ایک دن مومل سا جسم تھا گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں تھیں غرض ہر لحاظ سے وہ خوبصورت تھا۔۔۔ اس میں ایک عادت جس … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 17)

ہم ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے آپ کر سیراب کر رہے تھے کہ اندر کہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ۔۔ میں کس حالت میں تھا اسی میں رک گیا سانس تک روک لی شانزل کا حال میرے جیسا تھا وہ بھی ساکن ہو چکی تھی ۔ ہم یہ … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 18)

میں جنگل نما نرسری سے نکل کر گھر کی طرف چل پڑا ۔۔وہاں ٹاون کے اس بلاک میں ایک اور گھر تھا جن کو خان کہتے تھے ذات تو ان بلوچ تھی ان ایک ہی لڑکی تھی بہت خوبصورت نین نقش فربہ جسم کی مالک آ نکھوں میں بلا کی چمک تھی سرخی مائل رنگت … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 19)

باپ کی ڈانٹ تو ہر بندہ سنتا ہے جس کا احساس آنے والی زندگی میں ہوتا ہے جب انسان خود باپ بنتا ہے تب ایک ایک کڑی کھل کر سامنے آتی جاتی ہے باپ کی سختی میں چھپا پیار نظر آنے لگتا ہے۔۔۔ آپ لوگ بھی کہو گے کیا باتیں کے کر بیٹھ گیا ہوں … Read more